Saturday, 15 November 2014

ان کہی کو کہی بنانا ہے​

ان کہی کو کہی بنانا ہے​
اعتبارِ سخن بڑھانا ہے​
میرے اندر کا پانچواں موسم
کس نے دیکھا ہے، کس نے جانا ہے​
ڈگڈگی ہی نہیں بجانی مجھے​
عشق کو ناچ بھی سِکھانا ہے​
تم جو اتنا اُٹھا رہے ہو مجھے​
کِس کنوئیں میں مجھے گِرانا ہے​
رات کو روز ڈوب جاتا ہے​
چاند کو تیرنا سِکھانا ہے​
ہجر میں نِیند کیوں نہیں آتی
ہجر کا زائچہ بنانا ہے​
میں وہ بوسیدہ قبر ہوں بیدلؔ​
دفن جس میں مرا زمانہ ہے​

بیدل حیدری​

No comments:

Post a Comment