Saturday, 15 November 2014

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
ان ہواؤں سے تو بارُود کی بُو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچے
کیا بھروسا ہے سمندر کا، خدا خیر کرے
سِیپیاں چننے گئے ہیں مِرے سارے بچے
ہو گیا چرخِ ستم گر کا کلیجا ٹھنڈا
مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے
یہ ضروری ہے نئے کل کی ضمانت دی جائے
ورنہ سڑکوں پہ نکل آئیں گے سارے بچے

بیدل حیدری

No comments:

Post a Comment