گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں دھان کے پودوں کی طرح ہوتی ہیں
اڑ کے اک روز بڑی دور چلی جاتی ہیں
گھر کی شاخوں پہ یہ چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں
سہمی سہمی ہوئی رہتی ہیں مکانِ دل میں
ٹوٹ کر یہ بھی بکھر جاتی ہیں ایک لمحے میں
کچھ امیدیں بھی گھروندوں کی طرح ہوتی ہیں
آپ کو دیکھ کے جس وقت پلٹتی ہے نظر
میری آنکھیں، مری آنکھوں کی طرح ہوتی ہیں
باپ کا رتبہ بھی کچھ کم نہیں ہوتا، لیکن
جتنی مائیں ہیں فرشتوں کی طرح ہوتی ہیں
منور رانا
No comments:
Post a Comment