ہماری دوستی سے دشمنی شرمائی رہتی ہے
ہم اکبر ہیں ہمارے دل میں جودھا بائی رہتی ہے
کسی کا پوچھنا کب تک ہمارے راہ دیکھو گے
ہمارا فیصلہ جب تک کہ یہ بینائی رہتی ہے
میری صحبت میں بھیجو تاکہ اس کا ڈر نکل جائے
گلے شکوے ضروری ہیں اگر سچی محبت ہے
جہاں پانی بہت گہرا ہو، تھوڑی کائی رہتی ہے
بس اک دن پھوٹ کر رویا تھا میں تیری محبت میں
مگر آواز میری آج تک بھرائی رہتی ہے
خدا محفوظ رکھے ملک کو گندی سیاست سے
شرابی دیوروں کے بیچ میں بھوجائی رہتی ہے
منور رانا
No comments:
Post a Comment