Saturday, 1 November 2014

تجھ کو شہر میں بن میں ڈھونڈا ہار گئے

تجھ کو شہر میں، بن میں ڈھونڈا، ہار گئے
اک جگ دیکھا، سات سمندر پار گئے
سینے پر اک بوجھ سا لے کر لوٹ آئے
اس سے ملنے اس کے گھر، بے کار گئے
اک جینے کی رسم نبھائی ہے سب نے
ہم دفتر سے گھر آئے، بازار گئے
جانے جی میں کیا آئی اور کیا سوچا
اک بازی جو جیت ہی لی تھی، ہار گئے
غربت میں کیوں یادِ وطن ساتھ آئی ہے
دشت میں لے کر گھر کی اک دیوار گئے

مصحف اقبال توصیفی

No comments:

Post a Comment