اللہ اللہ یہ مے کدے کا نظام
مقتدی ہے کوئی نہ کوئی امام
جام پر لب ہے، لب پر تیرا نام
روز و شب، شام و صبح، صبح و شام
ہے یہ دنیائے عاشقی کا نظام
دلِ نازک امینِ سوزِ تمام
عشق فطرت کا آتشیں پیغام
ہے مآلِ جفا، وفا انجام
عشق آزاد اور حسن غلام
ماسوا کا بھلا یہاں کیا کام
کعبۂ عشق میں ہے حسن امام
ان کا جلوہ نشاطِ مستی و کیف
موج در موج، اور جام بہ جام
گردشِ روزگار بھی ہے شہید
صرف میں ہی نہیں قتیلِ خرام
جس پہ قربان کل جہانِ نیاز
ہاں ذرا مسکرا کے پھر وہ سلام
میں خود اپنے خیال سے آزاد
تُو اسیرِ غمِ حلال و حرام
اب کہاں نورِ قشقۂ رنگیں
اب کہاں جلوہ ہائے ماہِ تمام
زندہ رہنا ہے اِک جہادِ عظیم
خودکشی ہجر میں ہے جذبۂ خام
مر کے بھی ہم دکھائے دیتے ہیں
پھر نہ دینا ہمیں کوئی الزام
مر گیا بتکدے میں ساغرؔ آج
وہ مریدِ تبسمِ اصنام
ساغر نظامی
No comments:
Post a Comment