دل سے بھی غمِ عشق کا چرچا نہیں کرتے
ہم ان کو خیالوں میں بھی رسوا نہیں کرتے
آنسو کو گہر، بوند کو دریا نہیں کرتے
طوفانِ غمِ دوست کو رسوا نہیں کرتے
ہم ان سے ستم کا بھی تقاضا نہیں کرتے
آنکھوں سے بھی ہم عرضِ تمنا نہیں کرتے
خاموش تقاضا بھی گوارا نہیں کرتے
میں کانپ اٹھا کیف سے اے پیکرِ نازش
اس تشنگئ شوق سے دیکھا نہیں کرتے
اللہ رے، ۔۔ اندیشۂ انجامِ تمنا
ہم ان کے تقاضوں کی بھی پروا نہیں کرتے
منظور سہی از سرِ نو دل کی تباہی
پر بزم میں یوں ہاتھ دبایا نہیں کرتے
سجدہ بھی ہے منجملۂ اسبابِ نمائش
مقصود عبادت ہے، فقط دید نہیں ہے
ہم پوجتے ہیں آپ کو دیکھا نہیں کرتے
کافی ہے تِرا نقشِ قدم چاہے جہاں ہو
ہم پیروئ دیر و کلیسا نہیں کرتے
جن کو ہے تِری ذات سے یک گونہ تعلق
وہ تیرے تغافل کی بھی پروا نہیں کرتے
ہر آگ کو پہلو میں چھپا لیتے ہیں ساغرؔ
ہم تندئ صہبا سے بھی پگھلا نہیں کرتے
ساغر نظامی
No comments:
Post a Comment