Monday, 3 October 2016

سب کے ہاتھوں میں آج پتھر ہے

سب کے ہاتھوں میں آج پتھر ہے
ہر طرف ایک سا ہی منظر ہے
کیا خبر آج پھر سے ہو گا کیا
دل میں اک مضطرب سمندر ہے
آگ میں جل رہا ہے ہر کوئی
کب کسی کو سکوں میسر ہے
مجھ کو خوفِ زیاں نہیں ہرگز
روشنی شہرِ جاں کے اندر ہے
آپ نے میرا حال یوں پوچھا
مجھ کو کہنا پڑا کہ بہتر ہے
بڑھ چکی تیرگی بہت آخر
اب تو روشن سحر مقدر ہے
اصل صورت کہاں نظر آئے
اب تو ہر آئینہ مکدر ہے
میں ہوں انوارؔ اور خاموشی
جو مِرے ارتقاء کی مظہر ہے

انوار فیروز

No comments:

Post a Comment