سب کے ہاتھوں میں آج پتھر ہے
ہر طرف ایک سا ہی منظر ہے
کیا خبر آج پھر سے ہو گا کیا
دل میں اک مضطرب سمندر ہے
آگ میں جل رہا ہے ہر کوئی
مجھ کو خوفِ زیاں نہیں ہرگز
روشنی شہرِ جاں کے اندر ہے
آپ نے میرا حال یوں پوچھا
مجھ کو کہنا پڑا کہ بہتر ہے
بڑھ چکی تیرگی بہت آخر
اب تو روشن سحر مقدر ہے
اصل صورت کہاں نظر آئے
اب تو ہر آئینہ مکدر ہے
میں ہوں انوارؔ اور خاموشی
جو مِرے ارتقاء کی مظہر ہے
انوار فیروز
No comments:
Post a Comment