عشق میں تیرے کوہِ غم، سر پر لیا، جو ہو سو ہو
عیش و نشاط زندگی، چھوڑ دیا، جو ہو سو ہو
مجھ سے مریض کو طبیب، ہاتھ تو اپنا مت لگا
اس کو خدا پہ چھوڑ دے، بہرِ خدا جو ہو سو ہو
عقل کے مدرسے اٹھ، عشق کے مۓ کدے میں آ
ہجر کی جو مصیبتیں، عرض کیں اس کے رو برو
ناز و انداز سے مسکرا کے، کہنے لگا جو ہو سو ہو
ہستی کے اس سراب میں، رات کی رات بس رہے
صبح دم ہوا نمو، پاؤں اٹھا، جو ہو سو ہو
دنیا کے نیک و بد سے کام، ہم کو نیاؔز کچھ نہیں
آپ سے جو گزر گیا، اسے کیا، جو ہو سو ہو
شاہ نیاز بریلوی
No comments:
Post a Comment