تُو نے اپنا جلوہ دکھانے کو جو نقاب منہ سے اٹھا دیا
وہیں محو حیرتِ بے خودی مجھے آئینہ سا بنا دیا
وہ جو نقشِ پا کی طرح رہی تھی نمود اپنے وجود کی
سو کشش سے دامنِ ناز کی اسے بھی زمیں سے مٹا دیا
کیا ہی چین خوابِ عدم میں تھا، نہ تھا زلفِ یار کا کچھ خیال
رگ و پۓ میں آگ بھڑک اٹھی، پھونکے ہی پڑا سبھی بدن
مجھے ساقیا!! مۓ آتشیں کا یہ جام کیسا پلا دیا
جبھی جا کے مکتبِ عشق میں سبق مقامِ فنا کیا
جو لکھا پڑھا تھا نیازؔ نے سو وہ صاف دل سے بھلا دیا
شاہ نیاز بریلوی
No comments:
Post a Comment