Wednesday, 19 August 2020

اس چمن کو کبھی صحرا نہیں ہونے دوں گا

اس چمن کو کبھی صحرا نہیں ہونے دوں گا
مر مٹوں گا، مگر ایسا نہیں ہونے دوں گا
جب تلک بھی میری پلکوں پہ دیے روشن ہیں
اپنی نگری میں اندھیرا نہیں ہونے دوں گا
تُو اگر میرا نہیں ہے تو مجھے بھی ضد ہے
میں تجھے بھی کبھی تیرا نہیں ہونے دوں گا
رتجگوں نے میری آنکھوں کی بصارت لے لی
دلِ بینا! تجھے اندھا نہیں ہونے دوں گا
دفن ہو جائے گا خود رات کی تاریکی میں
جو یہ کہتا ہے، سویرا نہیں ہونے دوں گا

ساقی امروہوی

No comments:

Post a Comment