اس چمن کو کبھی صحرا نہیں ہونے دوں گا
مر مٹوں گا، مگر ایسا نہیں ہونے دوں گا
جب تلک بھی میری پلکوں پہ دیے روشن ہیں
اپنی نگری میں اندھیرا نہیں ہونے دوں گا
تُو اگر میرا نہیں ہے تو مجھے بھی ضد ہے
رتجگوں نے میری آنکھوں کی بصارت لے لی
دلِ بینا! تجھے اندھا نہیں ہونے دوں گا
دفن ہو جائے گا خود رات کی تاریکی میں
جو یہ کہتا ہے، سویرا نہیں ہونے دوں گا
ساقی امروہوی
No comments:
Post a Comment