Saturday, 15 August 2020

ہدف پہ اتنے سلیقے سے وار کرتے ہیں

ہدف پہ اتنے سلیقے سے وار کرتے ہیں
ہم ایک تیر↖ سے دو دو شکار کرتے ہیں
مٹھاس اترتی ہے پوروں میں اس کو چھونے سے
ہم اس بدن کو پھلوں میں شمار کرتے ہیں
قدم قدم پہ انا سے نمٹنا پڑتا ہے
ہم اپنے آپ کو مشکل سے پار کرتے ہیں
گھنے درختوں کا میں احترام کرتا ہوں
کہ یہ ہماری فضا سازگار کرتے ہیں
اک اور رسم، روایت کا حصہ بنتی ہے
ہم اک خطا کو اگر بار بار کرتے ہیں
میں چھت پہ رزق کا سامان رکھ کے آیا بس
کہ، کچھ پرندے🕊 مِرا انتظار کرتے ہیں

نادر عریض

No comments:

Post a Comment