ہدف پہ اتنے سلیقے سے وار کرتے ہیں
ہم ایک تیر↖ سے دو دو شکار کرتے ہیں
مٹھاس اترتی ہے پوروں میں اس کو چھونے سے
ہم اس بدن کو پھلوں میں شمار کرتے ہیں
قدم قدم پہ انا سے نمٹنا پڑتا ہے
گھنے درختوں کا میں احترام کرتا ہوں
کہ یہ ہماری فضا سازگار کرتے ہیں
اک اور رسم، روایت کا حصہ بنتی ہے
ہم اک خطا کو اگر بار بار کرتے ہیں
میں چھت پہ رزق کا سامان رکھ کے آیا بس
کہ، کچھ پرندے🕊 مِرا انتظار کرتے ہیں
نادر عریض
No comments:
Post a Comment