یہ تو ہونٹوں کو گنہ گار کیا جاتا ہے
ورنہ تصویر سے کیا پیار کیا جاتا ہے
طبعِ نازک پہ گراں گزرے نہ دستک کی صدا
پاؤں چھو کر اسے بیدار کیا جاتا ہے
ہٹنے لگتا ہوں اگر چوم کے پیشانی کو
تیری آنکھوں کے گرفتار سمجھتے ہوں گے
کتنی مشکل سے بھنور پار کیا جاتا ہے
یہ جو دیوار سے لگ جاتے ہیں چلتے ہوئے لوگ
آپ کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے
نادر عریض
No comments:
Post a Comment