Saturday, 15 August 2020

یہ تو ہونٹوں کو گنہگار کیا جاتا ہے

یہ تو ہونٹوں کو گنہ گار کیا جاتا ہے
ورنہ تصویر سے کیا پیار کیا جاتا ہے
طبعِ نازک پہ گراں گزرے نہ دستک کی صدا
پاؤں چھو کر اسے بیدار کیا جاتا ہے
ہٹنے لگتا ہوں اگر چوم کے پیشانی کو
تو مِرے سامنے رخسار کیا جاتا ہے
تیری آنکھوں کے گرفتار سمجھتے ہوں گے
کتنی مشکل سے بھنور پار کیا جاتا ہے
یہ جو دیوار سے لگ جاتے ہیں چلتے ہوئے لوگ
آپ کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے

نادر عریض

No comments:

Post a Comment