بس ایک دو نفس کا ہے نادیدہ فاصلہ
دارِ فنا سے دور نہیں قریۂ بقا
راہِ وفا میں کوئی نہیں اپنا رہنما
کس کو سنائیں اپنے بھٹکنے کا ماجرا
آج اس گلی کا ایک درِیچہ نہیں کھلا
کرنا ہے بات بات پہ تقدیر کا گلہ
اپنی طرف بھی دیکھ ذرا بندۂ خدا
زخموں کے پھول دل میں کِھلاۓ ہیں ایک عمر
تب جا کے، میں بہار کا رمز آشنا ہوا
ہر عکسِ زندگی ہے مِرے رخ سے آشکار
شفاف اس قدر ہے مِرے دل کا آئینہ
کانٹے چنے تو پھول شرر بار ہو گئے
میں زخم زخم ہو کے چمن زار سے چلا
میں تیرگئ نفرتِ دنیا سے کیا ڈروں
روشن ہے میرے دل میں تِرے پیار کا دِیا
اب میری بیخودی کی ہنسی کا جواب دے
میں نے کہا نہ تھا کہ، مِرے ہوش مت اڑا
وہ میرے حالِ زار سے واقِف نہیں ابھی
بابِ قبول تک نہیں پہنچی ابھی دعا
آرائشِ جمال میں مصروف ہے کوئی
اللہ! آئینے کے مقابِل ہے آئِینہ
اونچی اڑان پر ہے مِرا طائرِ خیال
مہر و مہ و نجوم و فلک سب ہیں زیرِ پا
میں نے کب اعترافِ محبت کیا ایاز
ناکردہ جرم کی بھی مجھے مل گئی سزا
ایاز صدیقی
No comments:
Post a Comment