دل کیوں تپاں ہے کوچۂ دلدار دیکھ کر
آگے بڑھوں گا چرخ کی رفتار دیکھ کر
خوش ہو سکا نہ حالِ دل زار دیکھ کر
جلتا ہے غیر میری شبِ تار دیکھ کر
سمجھے نہ آپ دیدۂ خونْبار دیکھ کر
طے کر کے آج خانہ بدوشی کی منزلیں
بیٹھا ہوں اس کا سایۂ دیوار دیکھ کر
وہ کیا سمجھ سکیں گے نشیب و فراز دہر
جو چل رہے ہیں راہ کو ہموار دیکھ کر
کیا تھا کہ ایسے وقت میں صاحب دلانِ حشر
دیکھا کئے مجھے تِرِی تلوار دیکھ کر
صد چاک دل کا ذکر نہ بھولا میں دَیر میں
تسبیح یاد آ گئی زنّار دیکھ کر
ٹوٹے ہیں شیشہ ہائے دل اتنے کہ اہلِ درد
رکھتے ہیں پاؤں خاک پہ سو بار دیکھ کر
صیاد کس جگہ پہ قفس ہے کہ دل مِرا
در ہو رہا ہے باغ کی دیوار دیکھ کر
ان دوستوں میں وہ نہ ہوں یا رب جو وقتِ دید
بیمار ہو گئے رخِ بیمار دیکھ کر
کہتے ہیں دل لگی مِری شامِ فراق کو
اچھا یوں ہی سہی مگر اک بار دیکھ کر
ثاقب عجب نہیں کہ سرِ طورِ امتحاں
غش دل کو آئے جلوۂ اشعار دیکھ کر
ثاقب لکھنوی
No comments:
Post a Comment