اسیرِ عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتے
جو انتہا کو پہنچتے، تو ابتدا کرتے
اگر زمانے میں اپنے کبھی وفا کرتے
دہانِ زخم تڑپنے پہ کیوں ہنسا کرتے
مریض، لذتِ فریاد کہہ نہیں سکتے
ہم ان سے مل کے بھی فرقت کا حال کہہ نہ سکے
مزہ وصال کا کھوتے اگر گِلہ کرتے
مذاقِ درد سے نا واقفی نہیں اچھی
کبھی کبھی تو مِری داستاں سنا کرتے
شبِ فراق گوارا نہ تھی، مگر دیکھی
اب اور خاطرِ مہماں زیادہ کیا کرتے
درِ قفس نہ کھلا، قدرِ صبر کر صیاد
تڑپتے ہم تو پہاڑوں میں راستا کرتے
اسے جلا کے، اسے آگ دی، برا نہ کیا
جگر جو رکھتے تھے آخر وہ دل کو کیا کرتے
زبان والوں سے سن سن کے ہے یقیں ثاقب
کہ بولتے تو صنم بھی "خدا، خدا" کرتے
ثاقب لکھنوی
No comments:
Post a Comment