Saturday, 15 August 2020

فرزانوں کی اس بستی میں ایک عجب سودائی ہے

فرزانوں کی اس بستی میں ایک عجب سودائی ہے
کس کے لیے یہ حال ہے اس کا کون ایسا ہرجائی ہے
کس کے لیے پھرتا ہے اکیلا، شہر کے ہنگاموں سے دور
کون ہے، جس کی خاطر اس کو تنہائی راس آئی ہے؟
کس کے لب و رخسار کی باتیں ڈھل جاتی ہیں غزلوں میں
کس کے خمِ کاکل 👩 کی کہانی وجہِ سخن آرائی ہے؟
کون ہے جس کی محرومی کے داغ ہیں اس کے سینے میں
کون ہے جس کے خوابوں کی اک دنیا میں نے سجائی ہے
کیوں اس کی آشفتہ سری کا چرچا ہے ہم لوگوں میں
کیوں اتنی پُر کیف و پُر سوز، اس کی شبِ تنہائی ہے
اطہر! آؤ، ہم بھی اس کے دل💔 کی باتیں سن آئیں
کہتے ہیں دیوانہ ہے وہ، وحشی ہے، سودائی ہے

اطہر نفیس

No comments:

Post a Comment