مطمئن اتنا کہ رہتا ہوں ہجومِ شہر میں
مضطرب ایسا کہ سائے سے بھی ڈر جاتا ہوں میں
کون سمجھے گا مِری تنہائیوں کے کرب کو
پوچھنے والوں سے کترا کر گزر جاتا ہوں میں
کوئی ایسا ہے کہ مجھ کو زندہ کر لیتا ہے پھر
کیوں مِرے دیوار و در کرتے نہیں مجھ سے کلام
کتنے ارمانوں سے یارو اپنے گھر جاتا ہوں میں
دن تو یوں کٹتا ہے جیسے کوئی غم مجھ کو نہیں
شام ہوتے ہوتے جانے کیوں بکھر جاتا ہوں میں
دور تک پھیلا ہوا دشتِ جنوں ہے اور آج
کوچۂ جاناں سے پھر آشفتہ سر جاتا ہوں میں
اطہر نفیس
No comments:
Post a Comment