Saturday, 15 August 2020

میں گلہ اگر کروں گا اسے ناروا کہو گے

میں گِلہ اگر کروں گام اسے ناروا کہو گے
جو ستم سے مر گیا تو مجھے بے وفا کہو گے
مجھے تم سے ہے جو نسبت اسے اور کیا کہو گے
کرم آشنا نہیں تو،۔ ستم آ شنا کہو گے
مِرے دل کی الجھنوں کو مِری چشمِ نم سے پوچھو
میں زباں سے کچھ کہوں گا تو اسے گِلہ کہو گے
یہ نہ جانے کون گزرا؟ ابھی جادۂ نظر سے
وہ عجیب نقشِ پا ہے، کہ تم آئینہ کہو گے
میں تو پوجتا ہوں ناصح کسی بت کو بت سمجھ کر
تمہیں سابقہ پڑے گا تو اسے "خدا" کہو گے
میں بتا ہی دوں نہ اختر تمہیں رازِِ نیک نامی
وہ برا نہیں کہے گا،۔ جسے تم بھلا کہو گے

اختر مسلمی

No comments:

Post a Comment