Monday, 17 August 2020

ہر شب تارِ خزاں صبح بہاراں کر دیں

ہر شبِ تارِ خزاں، صبحِ بہاراں کر دیں
خار بے جاں کو بھی رشک چمنستاں کر دیں
کر کے رنگیں در و دیوار لہو سے اپنے
ہم اگر چاہیں تو زنداں کو گلستاں کر دیں
عیش میں اپنے نہ ہو جن کو غریبوں کا خیال
ان کے ہر عیش کا شیرازہ پریشاں کر دیں
چیخ چیخ اٹھتے ہیں جس درد کی بیتابی سے
دلِ مظلوم کے اس درد کا درماں کر دیں
کر کے باطل کے خداؤں کی خدائی نابود
دوستو! آؤ، علاجِ غمِ دوراں کر دیں
ہر طرف بغض و عداوت کی گھٹا چھائی ہے
دہر میں شمعِ محبت کو فروزاں کر دیں
ظلمتِ شب میں بھٹکتا ہے زمانہ اختر
آؤ ہر ذرے کو خورشید درخشاں کر دیں

اختر مسلمی

No comments:

Post a Comment