لوگ یوں رازِ تعلق پا گئے
تذکرہ میرا تھا تم شرما گئے
پُرسشِ غم آپ یوں فرما گئے
جام میرے ضبط کا چھلکا گئے
کیا ستم ہے آئے بیٹھے چل دئیے
کیا خبر تھی سنگ دل نکلو گے تم
ہم تو اس صورت سے دھوکا کھا گئے
ان کی زلفیں ہی نہ سلجھیں اور ہم
داستانِ زندگی دُہرا گئے
اس نے دیکھا مجھ کو اس انداز سے
کچھ جبینوں پر کئی بل آ گئے
ہم کو سودا عشق کا مہنگا نہیں
کھوئے کچھ اس راہ میں کچھ پا گئے
اختر مسلمی
No comments:
Post a Comment