کون خواہش کرے کہ اور جیے
ایک بے زار زندگی کے لیے
اور کوئی نہیں ہے اس کے سوا
سکھ دئیے دکھ دئیے اسی نے دیے
آؤ ہونٹوں پہ لفظ رکھ لیں ہم
زخم کو راس آ گئی ہے ہوا
اب مسیحا اسے سیے نہ سیے
اس کے پیالے میں زہر ہے کہ شراب
کیسے معلوم ہو بغیر پیے
اب تھکن درد بنتی جاتی ہے
دل سے کچھ کام بھی تو ایسے لیے
میں نے ماں کا لباس جب پہنا
مجھ کو تتلی نے اپنے رنگ دیے
فاطمہ حسن
No comments:
Post a Comment