Friday, 21 August 2020

یہ کثافتوں کی جو بہتات ہے

کثافت

یہ کثافتوں کی جو بہتات ہے 
اس سے خود کو 
ہم کہاں تک بچائیں 
نہ تو سایۂ گنبد 
نہ کھلے اجلے صحن 

ایک بے رنگ سی 
بے روح فضا چھائی ہے 
صوت و آہنگ نہیں 
نوکِ سناں اٹھے ہیں 
اپنی آواز کو 
میں خود بھی نہیں سن سکتا 

علی ظہیر

No comments:

Post a Comment