کِیا کرتی ہوں تنہائی میں اشکوں سے وضو اکثر
تصور میں رہا کرتی ہے، تجھ سے گفتگو اکثر
تِری آنکھوں میں خود کو ڈھونڈتی ہوں اس لیے شاید
کہ اپنی ہی رہا کرتی ہے مجھ کو جستجو اکثر
تکا کرتی ہوں تنہا بیٹھ کر پہروں جو پھولوں کو
وہ رازِ دل جسے پھولوں کی صورت دل میں رکھا تھا
اسی کی تو مہک پھیلی ہے جاناں! چار سو اکثر
وہ ممنوعہ شجر ہے اس لیے شاید مِرے دل میں
رہا کرتی ہے چھو لینے کی اس کو آرزو اکثر
صدف! دینِ وفا کا دم تو سب بھرتے ہیں لیکن کیوں
اسی کے نام پر گلیوں میں بہتا ہے لہو اکثر؟
صدف مرزا
No comments:
Post a Comment