Wednesday, 19 August 2020

مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیا

مدت ہوئی اس جانِ حیا نے ہم سے یہ اقرار کیا
جتنے بھی بدنام ہوئے ہم، اُتنا اس نے پیار کیا
پہلے بھی خوش چشموں میں ہم چوکنا سے رہتے تھے
تیری سوئی آنکھوں نے تو اور ہمیں ہوشیار کیا
جاتے جاتے کوئی ہم سے اچھے رہنا کہہ تو گیا
پوچھے لیکن پوچھنے والے کس نے یہ بیمار کیا
قطرہ قطرہ صرف ہوا ہے عشق میں اپنے دل کا لہو
شکل دکھائی تب اس نے جب آنکھوں کو خوں بار کیا
ہم پر کتنی بار پڑے یہ دورے بھی تنہائی کے
جو بھی ہم سے ملنے آیا، ملنے سے انکار کیا
عشق میں کیا نقصان نفع ہے ہم کو کیا سمجھاتے ہو
ہم نے ساری عمر ہی یارو! دل کا کاروبار کیا
محفل پر جب نیند سی چھائی سب کے سب خاموش ہوئے
ہم نے تب کچھ شعر سنایا، لوگوں کو بیدار کیا
اب تم سوچو اب تم جانو جو چاہو اب رنگ بھرو
ہم نے تو اک نقشہ کھینچا، اک خاکہ تیار کیا
دیش سے جب پردیش سدھارے ہم پر یہ بھی وقت پڑا
نظمیں چھوڑیں، غزلیں چھوڑیں، گیتوں کا بیوپار کیا

جاں نثار اختر

No comments:

Post a Comment