Thursday, 20 August 2020

بھائی اپنے بھائی کے ہی خوں کا پیاسا دیکھ کر

بھائی اپنے بھائی کے ہی خوں کا پیاسا دیکھ کر
کون جینا چاہتا ہے ایسی دنیا دیکھ کر 
ہم قلندر جب نچوڑیں پیاس سے پتھر کبھی 
آنے لگتا ہے سمندر کو پسینہ دیکھ کر 
ہم نے ایسے باغباں کو اپنا گلشن دے دیا 
خوب ہنستا ہے جو کلیوں کا جنازہ دیکھ کر 
وقت کے ناخون نے اتنی خراشیں کھینچ دیں
ڈر رہا ہوں آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر
موت سے لڑتی رہی وقت ولادت ایک ماں
پھر اچانک خوش ہوئی بچے کو ہنستا دیکھ کر
اے خیال حسنِ جاناں! یوں نہ تم آیا کرو
لوگ ڈر جاتے ہیں تنہائی میں سایہ دیکھ کر
جب گزر ہوتا ہے بستی سے امیرِ شہر کا
منہ چھپاتا ہے فقیروں کا علاقہ دیکھ کر 
خواہشوں کی سب چتا ہم نے جلا دی ایک دن
محنتوں کا باپ کے ہاتھوں میں چھالا دیکھ کر  
جن کو اپنی پیاس سے مطلب تھا وہ پینے لگے
"ہم پلٹ آئے مگر پانی کو پیاسا دیکھ کر"
بس اسی یوسف کا سودا ہو گا اس بازار میں
حسن پر جس کے فدا ہو گی زلیخا دیکھ کر
گھٹ رہا ہے فکر کا دم رو رہے ہیں لفظ دل 
داد جو ملنے لگی ہے آج شجرہ دیکھ کر

دل سکندر پوری

No comments:

Post a Comment