بھائی اپنے بھائی کے ہی خوں کا پیاسا دیکھ کر
کون جینا چاہتا ہے ایسی دنیا دیکھ کر
ہم قلندر جب نچوڑیں پیاس سے پتھر کبھی
آنے لگتا ہے سمندر کو پسینہ دیکھ کر
ہم نے ایسے باغباں کو اپنا گلشن دے دیا
وقت کے ناخون نے اتنی خراشیں کھینچ دیں
ڈر رہا ہوں آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر
موت سے لڑتی رہی وقت ولادت ایک ماں
پھر اچانک خوش ہوئی بچے کو ہنستا دیکھ کر
اے خیال حسنِ جاناں! یوں نہ تم آیا کرو
لوگ ڈر جاتے ہیں تنہائی میں سایہ دیکھ کر
جب گزر ہوتا ہے بستی سے امیرِ شہر کا
منہ چھپاتا ہے فقیروں کا علاقہ دیکھ کر
خواہشوں کی سب چتا ہم نے جلا دی ایک دن
محنتوں کا باپ کے ہاتھوں میں چھالا دیکھ کر
جن کو اپنی پیاس سے مطلب تھا وہ پینے لگے
"ہم پلٹ آئے مگر پانی کو پیاسا دیکھ کر"
بس اسی یوسف کا سودا ہو گا اس بازار میں
حسن پر جس کے فدا ہو گی زلیخا دیکھ کر
گھٹ رہا ہے فکر کا دم رو رہے ہیں لفظ دل
داد جو ملنے لگی ہے آج شجرہ دیکھ کر
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment