شاخ در شاخ حوالوں کی طرح ہوتا ہے
پیڑ برگد کا کتابوں کی طرح ہوتا ہے
دل کے ویرانے میں گمنام پڑا رہ جائے
خوف ٹوٹی ہوئی قبروں کی طرح ہوتا ہے
چاہے جیسا بھی ہے اک روز گزر جائے گا
بعض اوقات شبِ تار میں دل کا عالم
جلتے بجھتے ہوئے تاروں کی طرح ہوتا ہے
فکرِ دنیا سے تہی، خواہشِ دنیا سے ادھر
"آدمی عشق میں بچوں کی طرح ہوتا ہے"
شعر در شعر اترتا ہے بطرزِ الہام
درد منظوم صحیفوں کی طرح ہوتا ہے
ذیشان مرتضیٰ
No comments:
Post a Comment