کون سنتا ہے کس سے کہیں ہم کو درپیش کتنے بڑے سانحے ہیں
آنکھ میچے ہوئے رات کو سو تو جاتے ہیں پر خواب میں جاگتے ہیں
آج مدت کے بعد اپنی تصویر میں تجھ کو دیکھا تو روندی پڑی تھی
ایسی راتوں کی راحت جسے نیند کی گولیوں سے بلاتے رہے ہیں
وہ خزانہ نما آنکھیں سب کی حفاظت کریں گی، اسی واسطے
ایسی وارفتگی ہے کہ نقشِ قدم تک نہیں مل رہا مجھ کو اپنا
کس سے پوچھوں کہ ان انگلیوں کے لکھے نام آخر کہاں اڑ گئے ہیں
خودکشی کے لیے اس سمندر میں چاروں طرف ایک منظر ہے بھائی
پانچویں سمت سے ڈوب کر دیکھیے تو بڑے دلربا ذائقے ہیں
اسامہ خالد
No comments:
Post a Comment