Saturday, 8 August 2020

کون سنتا ہے کس سے کہیں ہم کو درپیش

کون سنتا ہے کس سے کہیں ہم کو درپیش کتنے بڑے سانحے ہیں
آنکھ میچے ہوئے رات کو سو تو جاتے ہیں پر خواب میں جاگتے ہیں
آج مدت کے بعد اپنی تصویر میں تجھ کو دیکھا تو روندی پڑی تھی
ایسی راتوں کی راحت جسے نیند کی گولیوں سے بلاتے رہے ہیں
وہ خزانہ نما آنکھیں سب کی حفاظت کریں گی، اسی واسطے
ہم تیر کے وار سے چھل چکے ہیں پر ان وادیوں کا پتہ دے رہے ہیں
ایسی وارفتگی ہے کہ نقشِ قدم تک نہیں مل رہا مجھ کو اپنا
کس سے پوچھوں کہ ان انگلیوں کے لکھے نام آخر کہاں اڑ گئے ہیں
خودکشی کے لیے اس سمندر میں چاروں طرف ایک منظر ہے بھائی
پانچویں سمت سے ڈوب کر دیکھیے تو بڑے دلربا ذائقے ہیں

اسامہ خالد

No comments:

Post a Comment