Saturday, 8 August 2020

کارِ وحشت کے لیے موزوں جگہ ہے مجھ میں

رنج کی چھاؤں ہے جنگل ہے خلا ہے مجھ میں
کارِ وحشت کے لیے موزوں جگہ ہے مجھ میں
سرد خانے میں کوئی زندہ بدن، مشکل ہے
ہاں اگر لاش ضرورت ہے تو آ، ہے مجھ میں
دل کے رستے میں کئی خون لگے نقشِ قدم
اس کا مطلب ہے کوئی آبلہ پا ہے مجھ میں
شور تھم جائے تو تصدیق کرا دیتا ہوں
میرے لاشے کے سوا کون پڑا ہے مجھ میں
کس کی درخواست پہ زنجیر زنی روکی گئی؟
کون سا وحشی بدن میرے سوا ہے مجھ میں؟
راستہ ملتا نہیں دوست کی ویرانی کو
دیکھ لیتا ہوں اگر خالی جگہ ہے مجھ میں

اسامہ خالد

No comments:

Post a Comment