Wednesday, 19 August 2020

یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو

یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دُہائی نہ دو
وفورِ جذب سے ٹوٹو، مگر سنائی نہ دو
زمیں سے ایک تعلق ہے ناگزیر، مگر
جو ہو سکے تو اسے رنگِ آشنائی نہ دو
یہ دور وہ ہے، کہ بیٹھے رہو چراغ تلے
سبھی کو بزم میں دیکھو، مگر دکھائی نہ دو
شہنشہی بھی جو دل کے عوض ملے تو نہ لو
فرازِ کوہ کے بدلے بھی یہ ترائی نہ دو
جوابِ تہمتِ اہلِ زمانہ میں خورشید
یہی بہت ہے کہ لب سی رکھو صفائی نہ دو

خورشید رضوی

No comments:

Post a Comment