مِرے خلاف محبت کے کان بھرتی تھی
وہ ساحرہ، وہ شفق فام مجھ پہ مرتی تھی
میں تیرے سامنے برباد ہوگیا کیسے؟
تجھے تو میری اداسی اداس کرتی تھی
کبھی جو رات گئے، وہ کواڑ کھلتا تھا
وہ چہرہ ایک صحیفہ تھا دیکھ کر، جس کو
نئے خیال،۔ نئی شاعری اترتی تھی
بس اسکے بعد کبھی اِس طرح نہیں سوچا
میں چاہتا تو مِری زندگی سُدھرتی تھی
شروع دن سے ہی خستہ تھی یہ عمارتِ دل
خوشی تو ہاتھ لگاتے ہوۓ بھی ڈرتی تھی
کہ خیر اب تو زمیں اوڑھ لی گئی ساحر
گلی سے روز مِری بے گھری گزرتی تھی
جہانزیب ساحر
No comments:
Post a Comment