تمہارے تیر 🠞میں انداز تھا نظر کا سا
ہر ایک دل کا ہے نقشہ م<رے جگر کا سا
رقیب سر بھی پٹکتے تو میں نہ ہلتا کاش
ملا نہ بخت مجھے تیرے سنگِ در کا سا
فروغ رخ یہ نظر میں سما گیا یک بار
سر اس غبار کا دامانِ شہسوار پہ ہے
ملا فرشتہ کو رتبہ کہاں بشر کا سا
پیامِ مرگ سے لیتا ہوں میں شگونِ وصال
گماں ہے تیر پہ بھی مرغ نامہ بر کا سا
کسی کی برق تبسم جو دل میں کوند گئی
تو چشمِ تر کا ہوا حال ابرِ تر کا سا
اسماعیل میرٹھی
No comments:
Post a Comment