Monday, 17 August 2020

سنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا

سنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا
کہا کرتے ہیں افسانوں میں کیا کیا
نہیں تشویشِ آئندہ کہ ہو کب 
گزشتہ کا تحیر ہے کہ تھا کیا
نہ کر تفتیش ہے خلوت نشیں کون
تأمّل کر کہ ہے یہ برملا کیا
ہے اک آئینہ خانہ بزمِ کثرت
بتاؤں غیر کس کو؟ ماسوا کیا
جو نکلا ہی نہ ہو قصرِِ عدم سے
بگاڑے گی اسے موجِ فنا کیا
فقط مذکور ہے اک نسبتِ خاص
مقدر ہے خبر کیا، مبتدا کیا
جہاں نقشِ قدم ہو روحِ قدسی
وہاں پہنچے گی وعقلِ نارسا کیا

اسماعیل میرٹھی

No comments:

Post a Comment