سنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا
کہا کرتے ہیں افسانوں میں کیا کیا
نہیں تشویشِ آئندہ کہ ہو کب
گزشتہ کا تحیر ہے کہ تھا کیا
نہ کر تفتیش ہے خلوت نشیں کون
ہے اک آئینہ خانہ بزمِ کثرت
بتاؤں غیر کس کو؟ ماسوا کیا
جو نکلا ہی نہ ہو قصرِِ عدم سے
بگاڑے گی اسے موجِ فنا کیا
فقط مذکور ہے اک نسبتِ خاص
مقدر ہے خبر کیا، مبتدا کیا
جہاں نقشِ قدم ہو روحِ قدسی
وہاں پہنچے گی وعقلِ نارسا کیا
اسماعیل میرٹھی
No comments:
Post a Comment