Monday, 17 August 2020

چاند سا چہرہ جو اس کا آشکارا ہو گیا

چاند سا چہرہ جو اس کا آشکارا ہو گیا
تن پہ ہر قطرہ پسینہ کا شرارا ہو گیا
چھپ سکا دم بھر نہ راز دل فراق یار میں
وہ نہاں جس دم ہوا سب آشکارا ہو گیا
جس کو دیکھا چشم وحدت سے وہی معشوق ہے
پڑ گئی جس پر نظر اس کا نظارا ہو گیا
ہمکناری کی ہوس اے گوہرِ یکتا یہ ہے
آب ہو کر غم سے دل دریا ہمارا ہو گیا
خلق میں گرد یتیمی سے گہر کی قدر ہے
خاکساری سے فزوں رتبہ ہمارا ہو گیا
دل میں ہے اے برق اس بت کے در دنداں کی یاد
یہ گہر عرشِ بریں کا گوشوارہ ہو گیا

مرزا رضا برق

No comments:

Post a Comment