جتنے کردار یہاں چھائے ہوئے لگتے ہیں
ایک ہی شخص پہ فلمائے ہوئے لگتے ہیں
کوئی ترتیب نہیں لادے ہوئے اونٹوں کی
قافلے شکل سے گھبرائے ہوئے لگتے ہیں
جیسے بیٹھا ہو کوئی حالت مجبوری میں
خود کو دیکھوں تو کوئی اور نظر آتا ہے
آج کل آئینے چکرائے ہوئے لگتے ہیں
مغلیہ دور کی وحشت ہے مِرے کمرے میں
جسم دیوار میں چنوائے ہوئے لگتے ہیں
کوئی تفصیل، نہ تعداد کا اندازہ ہے
غم بھی تعطیل میں اِجرائے ہوئے لگتے ہیں
کتنے مانوس ہیں اس گاؤں کے بوڑھے برگد
لوگ اٹھ جائیں تو مرجھائے ہوئے لگتے ہیں
اب مجھے درد ضرورت سے بھی کم ہوتا ہے
اب مِرے زخم مسیحائے ہوئے لگتے ہیں
اپنے احساس کی تشریح کریں تو ساجد
ہم کسی شعر میں دفنائے ہوئے لگتے ہیں
لطیف ساجد
No comments:
Post a Comment