Sunday, 9 August 2020

جتنے کردار یہاں چھائے ہوئے لگتے ہیں

جتنے کردار یہاں چھائے ہوئے لگتے ہیں
ایک ہی شخص پہ فلمائے ہوئے لگتے ہیں
کوئی ترتیب نہیں لادے ہوئے اونٹوں کی
قافلے شکل سے گھبرائے ہوئے لگتے ہیں
جیسے بیٹھا ہو کوئی حالت مجبوری میں
آپ تصویر میں اکتائے ہوئے لگتے ہیں
خود کو دیکھوں تو کوئی اور نظر آتا ہے
آج کل آئینے چکرائے ہوئے لگتے ہیں
مغلیہ دور کی وحشت ہے مِرے کمرے میں
جسم دیوار میں چنوائے ہوئے لگتے ہیں
کوئی تفصیل، نہ تعداد کا اندازہ ہے
غم بھی تعطیل میں اِجرائے ہوئے لگتے ہیں
کتنے مانوس ہیں اس گاؤں کے بوڑھے برگد
لوگ اٹھ جائیں تو مرجھائے ہوئے لگتے ہیں
اب مجھے درد ضرورت سے بھی کم ہوتا ہے
اب مِرے زخم مسیحائے ہوئے لگتے ہیں
اپنے احساس کی تشریح کریں تو ساجد
ہم کسی شعر میں دفنائے ہوئے لگتے ہیں

لطیف ساجد

No comments:

Post a Comment