Saturday, 15 August 2020

اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے

اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے،۔ جو منظور خدا ہوتا ہے
نہیں بچتا، نہیں بچتا، نہیں بچتا عاشق
پوچھتے کیا ہو شب ہجر میں کیا ہوتا ہے؟
بے اثر نالے نہیں، آپ کا ڈر ہے  مجھ کو
ابھی کہہ دیجئے، پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے
کیوں نہ تشبیہ اسے زلف سے دیں عاشقِ زار
واقعی، طولِ شبِ ہجر بلا👹 ہوتا ہے
یوں تکبر نہ کرو، ہم بھی ہیں بندے اس کے
سجدے بت کرتے ہیں حامی جو خدا ہوتا ہے
برق افتادہ وہ ہوں سلطنتِ عالم میں
تاجِ سر عجز سے نقشِ کفِ پا ہوتا ہے

مرزا رضا برق

No comments:

Post a Comment