Saturday, 15 August 2020

کٹ نہ پائے یہ فاصلے بھی اگر

کٹ نہ پائے یہ فاصلے بھی اگر
اور اس پر یہ رابطے بھی اگر
جو تمہاری طرف نہیں کھلتے
بند نکلے وہ راستے بھی اگر
خیر ہو تیری بے نیازی کی
اب نہیں خود پرست تھے بھی اگر
کیا کریں گے سوائے خواہش کے
مہلتِ یک نفس ملے بھی اگر
عمر بھر کے زیاں کا مول نہیں
چند لمحے چرا لیے بھی اگر
خوں بہا کون دے گا جذبوں کا
بعد مرنے کے جی اٹھے بھی اگر
کون سمجھے گا استعاروں کو
کچھ نہ بولیں گے حاشیے بھی اگر

شکیل جاذب

No comments:

Post a Comment