سنے قہقہے، تو سن لو یہ فغانِ چشمِ تر بھی
کہ ہے داستاں میں شامل یہ حدیثِ مختصر بھی
جو وہ دن گزر گیا تھا تو یہ رات بھی کٹے گی
کبھی شام آ گئی تھی کبھی آئے گی سحر بھی
یہ عجیب رہروی ہے، کہ الجھ گئی ہیں راہیں
تِرے حسن سے شگفتہ ہوئیں مضمحل نگاہیں
جو سنور گئے نظارے تو سنور گئی نظر بھی
اسی کائنات ہی میں ہے جہانِ درد منداں
مِرے ناظرِ دو عالم کبھی اک نظر اِدھر بھی
صوفی تبسم
No comments:
Post a Comment