اثر کہاں سے رہے کوئی التجاؤں میں
بھرا ہے کھوٹ پسِ ہاؤ ہُو صداؤں میں
غبارِ وہم، دھواں دھار وعظ و تقریریں
بسی ہے بُوئے گماں، دیس کی فضاؤں میں
وہ ہاہا کار مچی مسلک اور مذاہب پر
وہ سات رنگ کہ جن پر ہزار رنگ فدا
پناہ ڈھونڈتے پِھرتے ہیں کہکشاؤں میں
مجھے بھگو کے، مِری روح تک کرے سیراب
یہی ہے فرق تِری زلف اور گھٹاؤں میں
پڑی ہمیں بھی سنی ان سنی کی عادت سی
شمار ہونے لگا اپنا، دلرباؤں میں
برتنا آ گیا ہم کو بھی طرزِ عمرِ رواں
انہیں بھی پڑ گئیں کم شوخیاں، اداؤں میں
کبھی حدیں بھی مقرر ہوں، بے وفائی کی
کوئی تو یاد ہمیں بھی رکھے دعاؤں میں
نظر نہ آئیں گے فہرستِ عاشقاں میں کہیں
کبھی تھا نام ہمارا بھی آشناؤں میں
سلمان اطہر
No comments:
Post a Comment