درد و غم کی حکایتیں مت پوچھ
دل پہ گزری قیامتیں مت پوچھ
ساری کوشش ہے بے حصول تری
زخمِ دل کی جراحتیں مت پوچھ
اک نظر میں نہ جانے کیا دیکھا
ذرے ذرے میں ہے تیری صورت
ہم سے اپنی شباہتیں مت پوچھ
فکرِ فردا رہے نہ اب دل میں
یادِ ماضی کی وحشتیں مت پوچھ
کہہ گئے راز جو بھی تھے دل کے
آنسوؤں کی عنایتیں مت پوچھ
یاد رکھنا تو ہے کمال تِرا
بھول جانے کی عادتیں مت پوچھ
ہم نے صدیاں گزار دیں اس میں
ایک پل کی رفاقتیں مت پوچھ
ہے محبت تو اعتبار بھی کر
ہر عمل کی وضاحتیں مت پوچھ
نزہت عباسی
No comments:
Post a Comment