"ہمارے عہد کی سچائیاں بھی جھوٹی ہیں"
خیال و فکر کی دانائیاں بھی جھوٹی ہیں
وجود و ذات کی بحثیں اٹھا رکھیں اے دل
ابھی تو وقت کی آگاہیاں بھی جھوٹی ہیں
گلوں میں رنگ، نہ ہے بادِ نو بہار کا رقص
اکیلے ہو کے بھی ہر دَم ہجوم رہتا ہے
تمہاری یاد کی تنہائیاں بھی جھوٹی ہیں
مجھے بھی اپنی نگاہوں پہ کوئی شک سا ہے
تمہارے درد کی پرچھائیاں بھی جھوٹی ہیں
جہاں میں حسن کی صورت نہیں رہی ویسی
تمہارے عشق کی سچائیاں بھی جھوٹی ہیں
ہے اب خیال کو کچھ اور وسعتوں کی طلب
مِرے شعور کی پہنائیاں بھی جھوٹی ہیں
نزہت عباسی
No comments:
Post a Comment