اثر زلف کا برملا ہو گیا
بلاؤں سے مل کر بلا ہو گیا
جنوں لے کے ہمراہ آئی بہار
نئے سر سے پھر ولولہ ہو گیا
دیا غیر نے بھی دل آخر اسے
سمائی دلِ تنگ کی دیکھیے
کہ عالم میں ثابت خلا ہو گیا
تعلی زمیں سے جو نالوں نے کی
فلک پر عیاں زلزلہ ہو گیا
ہوا قتل بے جرم میں جا کے برق
وہ کوچہ مجھے کربلا ہو گیا
مرزا رضا برق
No comments:
Post a Comment