لباسِ وصل میں کھلتے ہیں گل قرینے سے
رواں رواں ہے معطر، رواں پسینے سے
جھلک جو اس نے دکھائی برُوئے آئینہ
شرارِ وجد لپک جائے آبگینے سے
تمہارے رنگِ نزاکت کو دیکھنے کے لیے
خمارِ نفس اندھیرے کی تان کر چادر
چمکتے ٹانک رہا ہے کئی نگینے سے
سلمان اطہر
No comments:
Post a Comment