Tuesday, 18 August 2020

لباس وصل میں کھلتے ہیں گل قرینے سے

لباسِ وصل میں کھلتے ہیں گل قرینے سے
رواں رواں ہے معطر، رواں پسینے سے
جھلک جو اس نے دکھائی برُوئے آئینہ
شرارِ وجد لپک جائے آبگینے سے
تمہارے رنگِ نزاکت کو دیکھنے کے لیے
اتر کے آئے دھنک آسماں کے زینے سے
خمارِ نفس اندھیرے کی تان کر چادر
چمکتے ٹانک رہا ہے کئی نگینے سے

سلمان اطہر

No comments:

Post a Comment