Sunday, 9 August 2020

اگرچہ منسلک ہے تجھ سے حیرانی ہماری

اگرچہ منسلک ہے تجھ سے حیرانی ہماری
مگر ہم مطمئن ہیں دیکھ، پیشانی ہماری
خلا بھر تو لیا ہم نے تمہارے ساتھ، لیکن
بہت لاغر ہوئی جاتی ہے ویرانی ہماری
وہ ایسی کھڑکیاں ہیں جو فقط ہم پر کھلی ہیں
ان آنکھوں کے توسط سے ہے سلطانی ہماری
حسد کرتی ہے گاؤں کی مقدس خاک ہم سے
مٹاتا" ہی نہیں ہے "تشنگی" پانی ہماری"
برائے رنج کوشش ہو گی تم سے نہ ملیں ہم
بڑی "محتاط" رہ جائے فراوانی ہماری
تمہارا لمس کھڑکی سے نکل جاتا ہے اکثر
ابھر آتی ہے دیواروں پہ "ویرانی" ہماری

اسامہ خالد

No comments:

Post a Comment