اگرچہ منسلک ہے تجھ سے حیرانی ہماری
مگر ہم مطمئن ہیں دیکھ، پیشانی ہماری
خلا بھر تو لیا ہم نے تمہارے ساتھ، لیکن
بہت لاغر ہوئی جاتی ہے ویرانی ہماری
وہ ایسی کھڑکیاں ہیں جو فقط ہم پر کھلی ہیں
حسد کرتی ہے گاؤں کی مقدس خاک ہم سے
مٹاتا" ہی نہیں ہے "تشنگی" پانی ہماری"
برائے رنج کوشش ہو گی تم سے نہ ملیں ہم
بڑی "محتاط" رہ جائے فراوانی ہماری
تمہارا لمس کھڑکی سے نکل جاتا ہے اکثر
ابھر آتی ہے دیواروں پہ "ویرانی" ہماری
اسامہ خالد
No comments:
Post a Comment