Sunday, 9 August 2020

خود سے خود پوچھتا رہتا ہوں کہ کیسا ہوں میں

ٹھیک ہے ان دنوں خود پر ذرا غصہ ہوں میں
لیکن اپنی سبھی حرکات کو تکتا ہوں میں
آنکھ کی میز پہ رکھا ہے مِرا خوابِ سفر
اور بستر پہ شکن ڈال کے سویا ہوں میں
مصلحت ڈھونڈتے پھرتے ہو سبھی کاموں میں
تم کو بیمار نہیں لگتا تو اچھا ہوں میں؟
وقتِ وحشت مجھے پہچان نہیں پاتا کوئی
پھر بتاتا ہوں فلاں شخص کا بیٹا ہوں میں
اک مقام ایسا بھی آتا ہے مِری وحشت میں
خود کو جنجھوڑنا پڑتا ہے کہ زندہ ہوں میں
تم جو چاہو تو مجھے پیڑ کا حصہ کر دو
ورنہ، پیروں تلے روندا ہوا پتّا ہوں میں
چند لمحوں کا دھواں عکس میں تبدیل ہوا
اور میں جھوم کے کہنے لگا دیکھا! ہوں میں
سخت بیماری میں رکھتا ہوں خیال آپ اپنا
خود سے خود پوچھتا رہتا ہوں کہ کیسا ہوں میں

اسامہ خالد

No comments:

Post a Comment