جہانِ گریہ میں "لامکانی" کا در نہیں تھا
مگر میں جس موڑ پر کھڑا تھا ادھر نہیں تھا
کسی کی آنکھوں کا اشک ہوں اور بولتا ہوں
میں اس سمندر سے پیشتر "نفع" پر نہیں تھا
ہزار لوگوں کو "نم" فراہم کیا ہے میں نے
میں چیختا تھا کہ مجھ میں کوئی اکائی کم ہے
بدن میں جھانکا تو، رائیگانی کا سر نہیں تھا
یہ رنج کتنا "ملال" پیدا کرے گا مجھ میں
مہیب غم نے صدا لگائی، میں گھر نہیں تھا
اسامہ خالد
No comments:
Post a Comment