Sunday, 9 August 2020

ایک بوسیده ٹشو پیپر پہ لکھى ہوئى نظم

ایک بوسیده ٹشو پیپر پہ لکھى ہوئى نظم

حریمِ من
برہمن نام کی اونچی پہاڑی سے
محبت نام کا جھرنا نکلنے تک مجھے شودر سمجھنا
(اگرچہ میں تمہاری پاک مٹی سے بنا ہوں)
مجھے تصویر کر لینا

حنا کی انگلیوں پر پھوٹتے رنگوں سے
خود میں رنگ بھرنا مسکرانا اور مجھ کو سوچ لینا
بھول جانا
سوائے لمس
میں دنیا کے ہر جذبے کی خالص شکل میں تم کو ملوں گا
ڈھونڈنا
(تعویذ مت کرنا مجھے اپنے گلے کا)
ہمارے بیچ چھو لینے کی آسانی نہیں ہے
حریمِ جاں
میں ایک ایسا صحیفہ ہوں
جو اترا ہوں تمہارے پاک سینے میں
مجھے محسوس کرنا
ساحلی مٹی سے آدم ذات کی تخلیق ہونے تک

اسامہ خالد

No comments:

Post a Comment