تعلق کو تو اک عرصہ لگے گا
بچھڑ جانے میں بس لمحہ لگے گا
مِری تنہائی مجھ کو مار دے گی
میں مر جاؤں گا تو میلہ لگے گا
ہماری خواہشوں کا قتل کر دو
کبھی فرصت ملی تو مجھ سے ملنا
مجھے ملکر تمہیں اچھا لگے گا
بھری آنکھوں سے اس کو دیکھنا دوست
یہ صحرا بھی سمندر سا لگے گا
تمہارے ساتھ، یہ سب میں کروں تو
ذرا سوچو، تمہیں کیسا لگے گا
ہماری ذات آئینہ ہے سعدی
ہمیں دیکھو، تمہیں خود سا لگے گا
رضا اللہ سعدی
No comments:
Post a Comment