Sunday, 9 August 2020

بچھڑ جانے میں بس لمحہ لگے گا

تعلق کو تو اک عرصہ لگے گا
بچھڑ جانے میں بس لمحہ لگے گا
مِری تنہائی مجھ کو مار دے گی
میں مر جاؤں گا تو میلہ لگے گا
ہماری خواہشوں کا قتل کر دو
بتاؤ اس کا کیا خرچہ لگے گا
کبھی فرصت ملی تو مجھ سے ملنا
مجھے ملکر تمہیں اچھا لگے گا
بھری آنکھوں سے اس کو دیکھنا دوست
یہ صحرا بھی سمندر سا لگے گا
تمہارے ساتھ، یہ سب میں کروں تو
ذرا سوچو، تمہیں کیسا لگے گا
ہماری ذات آئینہ ہے سعدی
ہمیں دیکھو، تمہیں خود سا لگے گا

رضا اللہ سعدی

No comments:

Post a Comment