سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں
مجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیں
جو تشریف لاؤ، تو ہے کون مانع
مگر خوئے بد کو بہانے بہت ہیں
اثر کر گئی نفسِ رہزن کی دھمکی
معطل نہیں بیٹھتے "شغل" والے
شکار افگنوں کو "نشانے" بہت ہیں
کرو دل کے ویرانہ کی کنج کادی
دبے اس کھنڈر میں خزانے بہت ہیں
نہ اے شمع رو رو مر شام ہی سے
ابھی تجھ کو آنسو بہانے بہت ہیں
ہُوا میری روداد پر حکمِ آخر
کہ مشہور ایسے فسانے بہت ہیں
بچے کیوں بے چارہ مُرغ گرسنہ
بکثرت ہیں دام اور دانے بہت ہیں
بس ایک آستانہ ہے سجدے کے قابل
زمانہ میں گو "آستانے" بہت ہیں
اسماعیل میرٹھی
No comments:
Post a Comment