Saturday, 15 August 2020

خارج ہے عہد طفلی و پیری حساب سے

خارج ہے عہدِ طفلی و پیری حساب سے
البتہ، زندگی ہے عبارت شباب سے
ہر چند گفتگو کی نہ باقی رہے مجال
لیکن زباں دراز نہ چوکے جواب سے
ہے دعوئ خلوص تو کانوں پہ ہاتھ رکھ
بیمِ عذاب،۔ اور امیدِ ثواب سے
بے نور سینہ حفظِ سفینہ سے فائدہ
معنی سے ہے کتاب نہ معنی کتاب سے
وہ اور ہی نوا ہے محرّک سرور کی
باہر گلوئے مطرب و تارِ رُباب سے
کیا کہنے آدمی کے عجب چیز ہیں جناب
برتر ملائکہ سے،۔ فروتر دواب سے
سُوجھیں وہ بدعتیں کہ خدایا! تِری پناہ
فرصت اگر ملے بھی ہمیں خورد و خواب سے

اسماعیل میرٹھی

No comments:

Post a Comment